29 March, 2016 10:04


NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

28-MARCH-2016

ریاست کو آپریشن ضرب عضب کے مطابق دہشت گرد قوتوں کا بہت سختی کے ساتھ قلع قمع کرنا چاہئیے۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

عوام کو بھی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے نفسیاتی جنگ اس کو لڑنی ہے۔عشرت العباد

ہم اگر دہشت گردوں کا قلع قمع نہیں کریں گے تو پھر وہ ہمیں عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئیے حملے کرتے رہیں گے۔ عشرت العباد

دہشت گرد پاکستان کے چاروں صوبوں کشمیر اور گلگلت بلتستان ہر جگہ موجود ہیں۔ جنرل اعجاز اعوان

پاک فوج کی بیشتر تعداد اب تک دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں حصہ لے چکی ہے اور اس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ جنرل اعجاز

جب تک تمام انٹیلیجنس ایجنسیوں سے ایک مربوط کاروائی نہیں کی جائے گی یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ جنرل اعجاز

جب دہشت گردی کاکوئی واقع ہوتا ہے تو حکومت کہتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کو ختم کرنا ہے لیکن پھر دس پندرہ دنوں کے بعد جزبہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ جنرل اعجاز

اسلام آباد کے واقع میں بھی بالآخر فوج کو ہی طلب کرنا پڑا ہے۔ جنرل اعجاز

اسلام آباد کے متعلق حکومت کو معلوم تھا کہ لوگ آ سکتے ہیں لیکن وہ جس جنون کے ساتھ نکلے ہیں انہیں کنٹرول کرنا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ محمد زبیر

ہماری معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہے اور ہم میں سب سے زیادہ مزہبی جنون پایا جاتا ہے۔ محمد زبیر

ممتاز قادری کے جنازے کے بعد پتہ تھا کہ چالیسویں بھی ہو گا حکومت کو علما کی قیادت سے مزاکرات کرنے چاہئییں تھے۔ جنرل اعجاز

حکومت نے علما کی قیادت سے مزاکرات کئیے تھے۔ محمد زبیر

ریڈ زون میں سیاسی احتجاج کی گنجائش ہوتی ہے لیکن اس وقت اسلام آباد میں مزہبی احتجاج ہو رہا ہے جس پر خود حکومت بھی تقسیم کا شکار ہے۔ عارف علوی

حکومت کے پیر حسنات صاحب کا فتوی موجود ہے وہ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کی حمیات کرتے ہیں نواز شریف کے داماد کا بیان بھی موجود ہے۔ عارف علوی

جماعت اسلامی کا بھی اسلام آباد میں مظاہروں کے حق میں فتوی موجود ہے۔محمد زبیر

جماعت اسلامی نے سیاسی طور پر بیان دیا ہے وہ مفتی نہیں ہیں پیر حسنات نے ایک مفتی کے طور پر فتوی دیا ہے لیکن ان کا موقف غلط ہے۔ محمد زبیر

کالعدم تنظیمیں آزادی سے کام کر رہی ہیں ان کو حکومت نے فری ہینڈ دیا ہوا ہے۔ جنرل اعجاز

ہماری تیس پینتیس سالوں کی پالیسی نے بہت نقصان پہنچایا ہم نے حقانی نیٹورک جیسے گروپس بنائے بعد میں ان کی بندوقیں ہماری ہی طرف اٹھ گئیں۔ محمد زبیر

جنرل کیانی کے دور میں بھی دہشت گردوں کے خلاف سات بڑے آپریشن ہو چکے تھے گڈ اور بیڈ طالبان کی تمیز موجود نہیں تھی۔ جنرل اعجاز

جب امریکہ ڈو مور کا مطالبہ کرتا تھا تو جنرل کیانی نے کہا تھا کہ آپ بارڈر سیل کریں اس طرف آپ کاروائی کریں اس طرف ہم کریں گے۔ جنرل اعجاز

طالبان امریکہ کے خلاف لڑ رہے تھے اور ہم امریکہ کی حمایت کرتے تھے اس لئیے انہوں نے جنگ ہماری طرف موڑ دی۔ محمد زبیر

ہم نے اسی نوے کی دہائیوں میں اور نائن الیون کے بعد بہت غلطیاں کی ہیں اسامہ بن لادن آٹھ سالوں سے ایبٹ آباد میں بیٹھے تھے۔ محمد زبیر

پاکستان ایک پورس ملک ہے یہاں کون کہاں بیٹھا ہے بتانا بہت مشکل کام ہے۔ جنرل اعجاز

پنجاب میں آپریشن ضرب عضب اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام دہشت گردوں کو ختم نہیں کر دیا جاتا۔ رانا ثنا اللہ

مظفر گڑھ سے رات کاروائی کر کے تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو پہلے سے زیر نگرانی تھے۔ رانا ثنا اللہ

فیصل آباد میں سوساں روڈ پر رینجرز اور سی ٹی ڈی نے کاروائی کر کے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ رانا ثنا اللہ

یہ آپریشنز انٹیلی جنس بیس ہیں اور یہ تسلسل کے ساتھ ہوتے آ رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ

لاہور کے واقع کے بعد دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز زیادہ مظبوط اور فوکس کر دئیے گئے ہیں۔ رانا ثنا اللہ

وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ انٹیل جنس ایجنسیوں کے درمیان تال میل بڑھایا جائے اور آپریشنز کو اور تیز کر دیا جائے۔رانا ثنا اللہ

ہر ایجنسی نے اپنا اپنا کام کرنا ہے ہر ایجنسی مختلف کاموں کی ماہر ہے انہیں مل کر کام کرنا ہو گا۔ جنرل اعجاز

جس ایجنسی کی جس شعبے میں مہارت ہے وہ اس میں لیڈ کرے اور دوسری ایجنسیوں اور صوبوں سے مل کر کام کرے۔ جنرل اعجاز

ساری انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنا اپنا کام کرتی ہیں لیکن آئی ایس آئی کو سب پر فوقیت حاصل ہے۔ رانا ثنا اللہ

دہشت گردی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں ہے پورے ملک کا ہے حکومت جتنی دہشت گردی کے خلاف پر عزم ہے کسی اور شعبے میں نہیں ہے۔ رانا ثنا اللہ

رینجرز نے کہا ہے کہ جو علاقعے زیادہ خطرناک ہیں وہ وہاں پولیس کی مدد بھی کریں گے۔ رانا ثنا اللہ

مزہبی مدرسوں کا ایک مربوط نظام ہونا چاہئیے بچے سارا دن مدرسے میں نہ رہیں بلکہ شام کو اپنے گھروں کو جایں۔ جنرل اعجاز

حکومت غریب لوگوں کو آپشن دے کہ ان کے بچے عالم بننا چاہتے ہیں یا کوئی ٹیکنیکل کام سیکھنا چاہتے ہیں۔ جنرل اعجاز

مدرسے ہمارے ساتھ بھر پوور تعاون کر رہے ہیں اپنے اساتزہ اور طلبا کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ

نیشنل ایکشن پلان کے دو جزو تھے ایک عسکری اور دوسرا سویلین تھا۔ شاہ محمود قریشی

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عسکری جزو پر تو عمل ہوا لیکن سویلین جزو پر عمل نہیں ہوا۔ شاہ محمود قریشی

نیشنل ایکشن پلان کے بائیس نقاط تھے لیکن حکومت نے صرف دو پر عمل کیا ہے باقی پر لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی

نیشن ایکشن پلان کے تمام نقاط پر عمل نہ کرنے کے لئیے حکومت سیاسی مصلحتوں سے کام لے رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی