31 March, 2016 06:59


NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

30-MARCH-2016

اسلام آباد میں مظاہرہ ختم کرنے کے دو طریقے تھے ایک پر امن اور دوسرا طاقت کے زریعے ہم نے بات چیت سے مسئلہ حل کیا ہے۔اسحق ڈار کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

کسی نے افواہ پھیلا دی تھی کہ حکومت ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کرنے جا رہی ہے نہ ترمیم کی جا رہی ہے اور نہ کوئی ترمیم زیر غور ہے۔ اسحق ڈار

پر امن مظاہرین کو چھوڑ دیا جائے گا جبکہ جنہوں نے توڑ پھوڑ کی ہے یا پراپرٹی کو نقصان پہنچایا ہے انہیں نہیں چھوڑا جائے گا۔اسحق ڈار

وزارت داخلہ کے پاس بیگناہ لوگوں کے متعلق ثبوت ہیں ان کو چھوڑ دیا جائے گا باقی لوگوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہو گا۔ اسحق ڈار

علما کا مطالبہ تھا کہ ٹی وی پر فحش پروگراموں پر پابندی لگائی جائے تو ہم نے ان کو کہا ہے کہ وہ پمرا کے پاس شکایت درج کروایں۔ اسحق ڈار

کسہ کے پاس کوئی اتھارٹی نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کو کافر قرار دے۔ اسحق ڈار

علما کا ایک مطالبہ تھا کہ ملک میں نفاز اسلام کریں تو ہم نے ان کو کہا ہے کہ اپنی تجاویز وزارت مزہبی امور کو دے دیں۔ اسحق ڈار

اسلام آباد میں مظاہرین کے دھرنے کی وجہ سے جو نقصان ہوا ہے اس کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ اسحق ڈار

علما۶ کے ساتھ زبانی طور پر سات نقاطی معاہدہ طے پایا ہے تحریری نہیں امید ہے دونوں فریق اس کی پابندی کریں گے۔ اسحق ڈار

اگر رمضان شوگر مل سے را کے ایجنٹس پکڑے گئے ہیں تو شریف برادران کو اس کی وضاحت کرنی چاہئیے تھی انہوں نے مجھ پر الزام لگا دیا۔ جہانگیر ترین

میں نے بجلی بنانے کے لئیے بھارت کی کنسلٹنٹ فرم سے ماہرین باقاعدہ ویزے لگوا کر اور سارا پراسس پورا کر کے بلوائے تھے۔ جہانگیر ترین

بھارتی ماہرین تھوڑے عرصے کے لئیے آئے انہوں نے یہاں ہمارے لوگوں کو ٹریننگ دی اور واپس چلے گئے تھے۔ جہانگیر ترین

مجھے اس بات کا بالکل علم نہیں ہے کہ رمضان شوگر مل سے بھارتی را کے ایجنٹس پکڑے گئے ہیں یا نہیں۔ شیخ روحیل اصغر

انس نورانی مولانا نورانی کے اور حسنات پیر کرم شاہ کے بیٹے ہیں لیکن انہوں نے جو زبان استعمال کی ہے اس پر ان کے بزرگوں کی روحیں تڑپ رہی ہوں گی۔ روحیل اصغر

رمضان شوگر مل پر کام کرنے والے بھارتی ماہرین کے ویزے دس سال کے تھے اور ان کو پولیس چیکنگ سے بھی مبرا کیا گیا جس سے شک گزرتا ہے۔ جنرل غلام مرتضی

میں کسی پر کوئی الزام نہیں لگا رہا لیکن بھارتی ماہرین کی شکل میں را کے ایجنٹس پاکستان آ سکتے ہیں۔ جنرل غلام مرتضی

بھارت سے ماہرین منگوانے میں ہمیں اب بہت محطاط ہو جانا چاہئیے اور پالیسی کو سخت کر دینا چاہئیے۔ جہانگیر ترین

لاہور میں دہشت گردی کے واقع کے بعد جس طرح فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں شروع کی ہیں میں ان کی تائید بھی کرتا ہوں اور حمایت بھی کرتا ہوں۔جہانگیر ترین

لاہور میں دہشت گردی کے واقع کے بعد آرمی چیف کے حکم سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی شروع کی گئی ہے۔ جہانگیر ترین

پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ روحیل اصغر

پنجاب میں فٹ سولجرز کے خلاف تو کاروائیاں ہوتی رہیں لیکن ان کی قیادت کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا۔ جنرل غلام مرتضی

رینجرز نے پنجاب حکومت سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی اجازت مانگی لیکن اس نے انکار کر دیا۔ جنرل غلام مرتضی

آرمی چیف نے خود پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کا حکم دیا اور اس پر فوری طور پر عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ جنرل غلام مرتضی

پنجاب حکومت میں کچھ ایسے عناصر ہیں جو نہیں چاہتے کہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ جنرل غلام مرتضی

جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کے مسائل ہیں وہاں کاروائی ہونی چاہئیے۔ جہانگیر ترین

میں اس بات کو بالکل رد کرتا ہوں کہ پنجاب حکومت کا کوئی بھی بندہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کا مخالف ہے۔ روحیل اصغر

رینجرز نے پنجاب میں آپریشن شروع کیا ہے تو اب وہ لوگ پکڑے جا رہے ہیں جوپہلے نہیں پکڑے جا رہے تھے۔ جنرل غلام مرتضی

جنوبی پنجاب کا علاقعہ بہت دشوار گزار ہے وہاں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنا پولیس کے بس کا کام نہیں ہے۔ جنرل غلام مرتضی

جنوبی پنجاب میں گھنے جنگل ہیں اور وہاں ڈاکو چھپے ہوئے ہیں۔ روحیل اصغر

جنوبی پنجاب میں اب ڈاکووں کے ساتھ ساتھ دہشت گرد بھی چھپے ہوئے ہیں۔ جنرل غلام مرتضی