20 June, 2016 16:05


NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

20-JUNE-2016

روس کے افغانستان میں آنے کے بعد ہم نے جو پالیسی اختیار کی آج ہإ اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ آج کے واحد مہمان سرتاج عزیز کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

نائن الیون کے بعد حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔

موجودہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے معاملات میں دخل اندزی نہیں کرے گی۔

ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر کو کنٹرول کریں گے لوگ آسانی سے آ جا رہے ہیں۔

افغانستان اب پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا اگر کرے گا تو ہم بھر پور جواب دیں گے۔

میری افغانستان کے ڈپٹی وزیرخارجہ سے ملاقات ہوئی ہے تا کہ آئیندہ کو تلخی پیدا نہ ہو۔

ہم نے افغان مہاجرین کے بارے میں فیصلہ کر لیا ہے کہ اس مئلے کو کس طرح حل کرنا ہے۔

رجسڑڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین کو مرحلہ وار واپس بھیجا جائے گا۔

ہمارا بھارت کے ساتھ کشمیر کی وجہ سے ہمیشہ تنازع رہا ہے بھارت علاقعے میں اپنی برتری چاہتا ہے۔

بھارت چاہتا ہے کہ صرف دہشت گردی پر بات ہو لیکن ہم نے کہا ہے کہ ہمارے آٹھ پوائنٹس میں کشمیر اور دہشت گردی سب شامل ہیں۔

ہمارے چین کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں لیکن پچھلے تین سالوں میں سی پیک کی وجہ سے ان میں زبردست پیشرفت ہوئی ہے۔

اوفا کئ ڈیکلیڑیشن میں صاف طور پر لکھا ہے کہ تمام متنازع اشوز پر بات ہو گی اس میں کشمیر بھی شامل ہے۔

بھارت ہم کو گھیرے میں نہیں لے رہا اس نے سعودری عرب اور دوسرے ممالک کے ساتھ صرف سرمایہ کاری کے معاہدے کئیے ہیں۔

بھارت کے امریکہ کیمپ میں جانے پر ان کے اپنے ملک سے بھی اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔

امریکہ کو پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام پر اعتراض ہے اور کہتا ہے کہ ہم لانگ رینج میزائل کیوں بنا رہے ہیں۔

پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام پر کسی ملک کے دباؤ کی وجہ سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جی ایچ کیو میں آرمی چیف کے ساتھ میٹنگ میری تجویز پر ہوئی تھی۔

میں نے ہی باقی وزرا کو اس میٹنگ کی اطلاع کی تھی۔

جی ایچ کیو کی میٹنگ کو آرمی چیف چیر نہیں کر رہے تھے ہم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔

امریکہ کو غلط فہمی ہے کہ ہم دہشت گردی کی جنگ میں بھی شامل ہیں اور طالبان کی مدد بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کر کے امریکہ کی غلط فہمی دور کر دی ہے۔

ہم نے این ای سی پر اس کے اڑتالیس رکن ممالک سے رابطہ کیا ہے۔

ہم نے کہا ہے کہ اگر بھارت کو این ای سی کی رکنیت دی جائے تو پھر پاکستان کو بھی دی جائے۔

پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات اس پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

پٹھان کوٹ پر حملے پر بھارت نے جو ثبوت دئیے ہیں ان پر تحقیقات ہو رہی ہیں۔

پٹھان کوٹ پر حملے میں اگر ہمارے کچھ لوگ ملوث ہیں تو ان کے خلاف ہماری ایجنسیاں کاروائی کریں گی۔