27 June, 2016 16:07


NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

27-JUNE-2016

میں ڈاکٹر کے پاس سے گھر واپس آ رہی تھی جب امجد صابری گھر سے ٹی وی سٹیشن جانے کے لئیے نکل رہے تھے۔ والدہ امجد صابری کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

امجد صابری کے گھر سے جانے کے دس منٹ بعد ایک بندہ آیا اور بتایا کہ امجد کو گولی لگ گئی ہے۔ والدہ

ہاتھ یا پیر میں گولی لگتی تو علاج کروا لیتی ظالموں نے تو اسے جان سے ہی مار دیا۔ والدہ

امجد صابری کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں تھی وہ بہت بے غم قسم کا انسان تھا۔ والدہ

میرے بیٹے کی کس سے کوئی دشمنی نہیں تھی لوگ اس کی بہت عزت کرتے تھے۔ والدہ

میری اب ایک ہی خواہش ہے کہ جس نے میرے بیٹے کو مارا ہے ایک دفعہ کوئی اس کو مجھے دکھا دے۔ والدہ

امجد صابری کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں پوچھتے ہیں دادی ڈیڈی کب آیں گے۔ والدہ

میری ملک کے تمام بچوں کے لئیے دعا ہے کہ اللہ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے ملک میں امن لایں۔ والدہ

پچھلے دنوں میں ہونے والے واقعات سے پہلے ہر کوئی محسوس کر رہا تھا کہ کراچی کے حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ محمد زبیر

کراچی میں ہونے والے حالیہ واقعات شہر کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں۔ محمد زبیر

میرا امجد صابری کے خاندان سے بہت پرانا تعلق ہے سارا ملک ان کے غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ عارف علوی

ہم نے کراچی میں فوج کو بلا لیا لیکن جو پولیس کو ٹھیک کرنے کا کام کرنا تھا وہ نہیں کیا۔ عارف علوی

کراچی آپریشن کو جس سیاسی اونر شپ کی ضروت تھی وہ نہیں دی گئی۔ جنرل غلام مصطفی

دسمبر دو ہزار چودہ کے بعد ہم قوم کو متحد کر کے ان کے زہن تبدیل کر سکتے تھے لیکن وہ سیاست کی نظر ہو گیا۔ جنرل غلام مصطفی

دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں لیکن ان کی ضمانت ہو جاتی ہے ہمیں جیوڈیشل سسٹم ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ جنرل غلام مصطفی

ستر کی دہائی تک ہم ایک برداشت رکھنے والی سوسائٹی تھے۔ محمد زبیر

جنرل ضیا۶الحق نے جہاد افغانستان کے نام پر جو کچھ کیا اس نے ہمارے معاشرے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ محمد زبیر

دہشت گردوں کے خلاف عسکری ایکشن تو ہو رہا ہے لیکن زہنوں کو تبدیل کرنے کے لئیے ہم نے کچھ نہیں کیا ۔ عارف علوی

ہمیں اپنے نظام تعلیم میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تا کہ انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جنرل غلام مصطفی

لوگوں میں برداشت پیدا کرنے کے عمل میں وقت لگے گا لیکن دہشت گردوں اور ان کی بھرتی پر فوری وار کرنے کی ضرورت ہے۔ عارف علوی

پولیٹیکل ول کی اور جیوڈیشل سسٹم کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ورنہ فوج بھی یہ جنگ نہیں لڑ سکے گی۔ جنرل غلام مصطفی