4 October, 2016 06:51


NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

03-OCTOBER-2016

میرا شہید بیٹا نماز کا پابند تھا اور دینی کتب کا مطالعہ کرتا رہتا تھا۔ شہید امتیاز کے والد کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

شہید امتیاز کی صرف ایک ہفتہ پہلے کشمیر میں پوسٹنگ ہوئی تھی میرے بیٹے کی تین چھوٹی بیٹیاں ہیں۔ والد شہید امتیاز

ہمیں اپنے فوجیوں پر فخر ہے پوری قوم ان کے پیچھے ہے انہیں کسی قسم کی گھبراہٹ نہیں ہونی چاہئیے۔ والد امتیاز شہید

اے پی سی پیپلز پارٹی کی سوچ تھی حکومت نے اسے دیر سے کیا لیکن چلو کیا تو سہی۔ ندیم افضل چن

اے پی سی بلانا حکومت کا فرض تھا لیکن اس کا شکریہ کہ پیپلز پارٹی کے پریس کانفرنس کرنے پر انہوں نے یہ کانفرنس بلا لی۔ ندیم افضل چن

پیپلز پارٹی نے اے پی سی میں بھر پور طریقے سے شرکت کی اور نیشنل ایکشن پلان کی طرح حکومت کو اپنی مکمل حمایت دی۔ ندیم افضل چن

اے پی سی پہلے ہو جانی چاہئیے تھی لیکن ابھی ہو جانا بھی خوش آئیند ہے سب ایک ہو کر بیٹھے۔ فیصل سبزواری

سیاسی طاقتوں نے ثابت کیا کہ کوئی بھی قومی مسئلہ ہو وہ اپنے ملک اور دھرتی کے لئیے ایک ہو سکتی ہیں۔ فیصل سبزواری

پاکستان کے دشمنوں اور مخالفین نے پاکستان کو اس طرح پیش کیا ہے کہ دہشت گردی کی بہت ساری چیزیں یہاں سے جنم لیتی رہی ہیں۔ فیصل سبزواری

ہمیں دہشت گردی کے خلاف صرف سفارتی محاز پر ہی نہیں لڑنا بلکہ نیشنل ایکشن پلان پر بھی عمل کرنا ہے جس کے اکیس نقاط پر ہم عمل نہیں کر پائے ہیں۔ فیصل سبزواری

آج سب سیاسی جماعتوں نے انہی اقدامات کی توثیق کی ہے جو حکومت نے پچھلے کچھ دنوں میں لئیے ہیں۔ طلال چوہدری

کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کا وزیرخارجہ نہیں ہے وزیر خارجہ اور مشیر خارجہ میں صرف نام کا ہی تو فرق ہے۔ طلال چوہدری

پندرہ سال بعد اگر کشمیر کا مسئلہ دوبارہ ابھر کر سامنے آیا ہے تو اس کا کچھ حد تک کریڈٹ ہماری حکومت کو دینا ہو گا۔ طلال چوہدری

ہمیں خارجہ معاملات کو ایک ادارے کو طور پر مظبوط کرنے کی ضرورت ہے پارلیمنٹ سے کبھی آواز نہیں آتی۔ ندیم افضل چن

مسلم لیگ ن کی تیسری مرتبہ حکومت بنی ہے اب تو ان کو سب معلوم ہے میرے خیال میں حکومت خارجہ پالیسی میں اتنی سیریس نہیں ہے۔ ندیم افضل چن

میں نے وزیراعظم کی کشمیر پر تقریر کی تعریف کی لیکن اس کی جو کمیاں اور خامیاں تھیں ان پر بھی بات کی۔ شاہ محمود قریشی

میں کہا کہ وزیراعظم کو اپنی تقریر میں بلوچستان کی بات کرنی چاہئیے تھی اور بلوچستان اور کشمیر کی صورت حال میں جو فرق ہے اس پر بات کرنی چاہئیے تھی۔ شاہ محمود قریشی

اڑی حملے پر حکومت کا رد عمل تین دن کے بعد آیا اور اس دوران بھارت کا یک طرفہ پراپیگنڈہ چلتا رہا۔ شاہ محمود قریشی

بھارت پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنا چاہتا ہے پتہ تھا کہ سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا لیکن کوئی سفارتی کوشش نہیں کی گئی۔ شاہ محمود قریشی

سارک کے آٹھ میں سے پانچ ممالک نے سارک کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کیا۔ شاہ محمود قریشی

اڑی واقعہ کے بعد جب بھارت سرجیکل سٹرائیک کی باتیں کر رہا تھا وزیراعظم نے اپنا لندن میں قیام بڑھا دیا انہیں فوراْ واپس آنا چاہئیے تھا۔ شاہ محمود قریشی

اے پی سی میں بھی پانی اور بلوچستان کا مسئلہ اپوزیشن نے زور دے کر شامل کروایا۔ شاہ محمود قریشی

لگتا ہے کہ لندن وزیراعظم ک لئیے ڈیفنس پوائنٹ ہے اس لئیے لندن کا قیام بڑھا دیتے ہیں۔ ندیم افضل چن

پاکستان دنیا کو اپنا امن پسند ہونے کا موقف پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس میں ہماری خارجہ پالیسی کا قصور ہے۔ ندیم افضل چن

پاکستان میں کالعدم تنظیموں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہے اور یہ نام بدل کر کام کرتی ہیں۔ فیصل سبزواری

ماضی میں امریکہ اور پوری دنیا کا ایک ہی موقف تھا طالبان کو بٹھا کر جہاد کی باتیں کی جاتی تھیں۔ طلال چوہدری

اب ہمیں جہادی گروپس پر بات کرنی ہے اور ان گروپوں کو اب تیزی سے ختم کرنا ہے۔ طلال چوہدری

ہمیں موجودہ بحران میں کشمیر کمیٹی کہیں دکھائی نہیں دیتی میں نے مولانا فضل الرحمان سے کہا ہے کہ اگر وہ بہت زیادہ مصروف ہیں تو پھر کشمیر کمیٹی چھوڑ دیں۔ شاہ محمود قریشی

کشمیر کے مسئلے پر دنیا میں وفود کا بھیجنا اچھی بات ہے لیکن ان لوگوں کو بھیجں جنہیں کشمیر کے مسئلے کا علم ہو۔ شاہ محمود قریشی

ابھی ہمیں بہت سے نقاط پر دنیا میں اپنا موقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہ محمود قریشی

بھارت نے پاکستان کو دنیا میں کراس بارڈر دہشت گردی کا زمہ دار ٹھہرا کر ڈیفینسو کیا ہوا ہے جبکہ ہم دنیا میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی

پاناما لیکس کی طرح کے کچھ ایسے مسائل ہیں جنہوں نے قوم کو تقسیم کیا ہوا ہے ان پر بھی بات ہونی چاہئیے۔ شاہ محمود قریشی

ہمیں منافقت ختم کرنے کی ضرورت ہے سیاسی طبقہ پہلے اپنی منافقت ختم کرے پھر دوسروں سے کروائے۔ ندیم افضل چن

سول ملٹری ڈائیلاگ مسائل کا حل ہیں اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ندیم افضل چن

نیشنل ایکشن پلان پرعمل ہوتا تو آج دنیا میں پاکستان کا تاثر زیادہ بہتر ہوتا۔ شاہ محمود قریشی

قومی مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہونا پڑے گا۔ طلال چوہدری

سیکریٹری خارجہ کہتے ہیں کہ پندرہ جولائی کو انہوں نے حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ بھارت دہشت گردی کا کوئی ڈرامہ کر سکتا ہے حکومت کو اس کا تدارک کرنا چاہئیے تھا۔ شاہ محمود قریشی