19 October, 2016 16:04


NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

19-OCTOBER-2016

ایک تعلیم یہ ہے اور ہمارا مزہب بھی یہی کہتا ہے کہ پردہ رکھو لیکن پھر کبھی اینٹ کا جواب پتھر سے بھی دینا پڑتا ہے۔ آج کے واحد مہمان ڈاکٹر عشرت العباد کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

لوگ میرے بارے میں کنفیوژ رہتے ہیں کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا بندہ ہوں یا نہیں ہوں۔

میں آئینی طور پر اسٹیلشمنٹ کا بندہ ہوں کیونکہ میں صدر کے ماتحت ہوں ار وہ فوج کے سپریم کمانڈر ہیں۔

ہم بارہ مئی کے زمہ داروں کو انشا اللہ چوراہوں میں لٹکایں گے۔

بارہ مئی کی تحقیقات ابھی ہو رہی ہیں اور طے کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے جانیں لی تھیں ان سب کو پکڑا جائے گا۔

میں بارہ مئی پر کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا جو کچھ بھی کہوں گا حقائق بتاؤں گا۔

دو ہزار تیرہ میں اور نعمت اللہ خان بیٹھے تھے بہت زیادہ بارشیں ہو رہی تھیں ہم نے طے کیا کہ شہر کی ترقی کے لئیے کچھ کام کریں۔

نعمت اللہ خان بہت عمر رسیدہ نیک اور ایماندار انسان ہیں۔

کے فور منصوبے کی بنیاد میں نے اور نعمت اللہ صاحب نے رکھی تھی۔

ہم نے کراچی شہر کی ترقی کے فنڈز کے لئیے وفاقی حکومت اور کچھ بیرونی ممالک کو بھی شامل کیا۔

نعمت اللہ صاحب کے بعد مصطفی کمال صاحب مئیر بن گئے تو ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ ایک نوجوان مئیر بنے ہیں اب زیادہ ترقی ہو گی۔

مصطفی کمال کی ایک کنسٹرکشن کمپنی تھی اور اس میں ان کا ویسٹڈ انٹرسٹ تھا بعد میں وہ کراچی کے مئیر بن گئے۔

کراچی کے ترقیاتی فنڈز میں سے مصطفی کمال صاحب پیسہ چوری کر کے ملائشیا اور لندن بھجوایا کرتے تھے۔

ایک بریکنگ نیوز دیتا ہوں کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ مصطفی کمال بالواسطہ طور پر الطاف حسین سے رابطے میں ہیں۔

میرے پاس بہت سی معلومات ہیں لیکن میں وہ لوگوں کو نہیں بتاتا لیکن جہاں بتانا ہوتا ہے وہاں بتا دیتا ہوں۔

کمال مرچنٹ جو چاہیں کہہ سکتے ہیں انہیں کراچی آ کر بات کرنا چاہئیے۔

الطاف حسین کے بارے میں برطانوی عدالت سے فیصلہ آیا ہے ہمیں اسے قبول کرنا چاہئیے۔

الطاف حسین مجھے سیاست میں لائے میں ان کے خلاف نہیں بولوں گا میں تو زرداری یا نواز شریف کے خلاف نہیں بولا۔

یہ بات ساری بکواس ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بندے توڑ رہی ہے کیا اسٹیبلشمنٹ کو اور کوئی کام نہیں ہے۔

اگر کوئی آرمی کو بدنام کرنے کی کوشش کرے گا تو پھر اس کو سزا ملے گی اور ہم نے سزا دی بھی ہے۔

میں ایک ایسی جگہ بیٹھا ہوں کہ مجھے کچھ نہ بھی پتہ ہو تو مجھ تک خبر پہنچ جاتی ہے۔

صولت مرزا کے بیان پر کہ اگر ایم کیو ایم کا کوئی بندہ پکڑا جاتا تھا تو میں اسے چھڑواتا تھا کوئی تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔

عظیم طارق کے قتل کے وقت کس نے دروازہ کھولا تھا میں نہیں جانتا۔

ایک صحافی نے کہا کہ کیا آپ عظیم طارق کا کیس کھولیں گے تو میں نے کہا کہ کھول دیتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے لوگ دہشت گردی میں ملوث تھے لیکن اس کے علاوہ کالعدم تنظیمیں اور کرمنل طبقہ اور بھتہ لینے والے لوگ بھی شامل تھے۔

میرے ایکشن لینے کی وجہ سے ہی آج نائن زیرو بند ہے۔

ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کراچی کے بلدیہ فیکٹری بارہ مئی جیسے چیدہ چیدہ مقدمات کو کھولیں گے۔

میری نظر میں کسی جماعت کی کوئی اہمیت نہیں ہے صرف کراچی میں امن لانے کی اہمیت ہے۔

آج کراچی سے جو اسلحہ پکڑا گیا ہے اس کے پیچھے بہت سی معلومات ہیں تھوڑی سی دھیرج رکھیں ہر چیز سامنے لایں گے۔

کراچی میں را ملوث ہے بہت سے لوگ پکڑے گئے ہیں۔

آرمی چیف بیداغ انسان ہیں پاکستان کا اثاثہ ہیں ان کے متعلق باتیں نہ کریں۔

میں گورنر ہوں اور میری طاقت اس بات میں ہے کہ میں نیوٹرل رہوں۔