17 November, 2016 15:55


NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

17-NOVEMBER-2016

میں پرفیشنل وکیل ہوں ہم جیت رہے ہیں یا ہار رہے ہیں میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ بیرسٹر ظفراللہ کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

مجھے پی ٹی آئی کے ثبوت ناقص لگے انہوں نے عدالت میں فوٹو کاپیاں پیش کیں اصل کاغزات پیش کرنا ایک مسلمہ اصول ہے۔ بیرسٹر ظفراللہ

جج صاحب نے یہ کہا تھا کہ جب آپ کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں تو پھر آپ کیس کو پھیلا کیوں رہے ہیں۔ اسد عمر

ایک جج صاحب نے کہا کہ اگر شریف خاندان کے بیانات میں تضادات ہوں گے تو پھر نتائج بھگتنے پڑیں گے اور ایک نے کہا کہ تضادات ہیں۔ اسد عمر

مسلم لیگ ن کی کہانی سے اب جدہ غائب ہو گیا ہے اور اس میں قطر آ گیا ہے۔ اسد عمر

اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ نیلسن اور نیسکان لندن فلیٹس کے مالک ہیں۔ اسد عمر

اللہ کرے پی ٹی آئی کامیاب ہو لیکن اعلی عدلیہ کا پیپلز پارٹی کے ساتھ جو رویہ رہا ہے اس کے مطابق پی ٹی آئی کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ ندیم افضل چن

میری خواہش ہے کہ سپریم کورٹ خود سے انصاف کا وہ دھبہ اتار دے جو اس پر لگا ہوا ہے۔ ندیم افضل چن

عدالت آج تک شریف خاندان کو ریسکیو کرتی رہی ہے جو بہت مظبوط سیاسی خاندان ہے۔ ندیم افضل چن

پی ٹی آئی نے عدالت میں ثبوت دینے تھے لیکن انہوں نے آج عدالت میں ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں۔ بیرسٹر ظفراللہ

ایک جج صاحب نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے والیم ون میں پاناما لیک پر ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ اسد عمر

پاناما کیس پاکستان کی تاریخ میں بہت اہم ہے اگر حامد خان صاحب کو لگے کہ انہیں دوسرے وکیلوں کی مدد کی ضرورت ہے تو لی جائے گی۔ اسد عمر

عمران خان کے خلاف بھی عدالت میں کیس موجود ہے اور اس میں حنیف عباسی نے بہت سے ثبوت لگائے ہوئے ہیں۔ بیرسٹر ظفراللہ

کوئی پاناما کیس کو کھوہ کھاتے میں بھیجنا بھی چاہے گا تو نہیں بھیج سکے گا کیونکہ عوام سیاسی اشرافیہ کو اپنے مسائل کی وجہ سمجھتی ہے۔ ندیم افضل چن

پہلے صرف سوئٹزرلینڈ سنا تھا لیکن اب تو فنانشل عرب سپرنگ آ گیا ہے۔ ندیم افضل چن

شریف خاندان عدالت سے خدانخواستہ بری بھی ہو جایں تو عوام کی عدالت سے بری نہیں ہو سکیں گے ان کے بیانات میں تضادات ہیں۔ ندیم افضل چن

زرداری صاحب پر بھی الزامات لگے وہ بھی ثابت کریں۔ بیرسٹر ظفراللہ

انیس سو چورانوے سے شریف خاندان پر الزام لگتا رہا کہ لندن فلیٹس ان کے ہیں اور یہ کہتے رہے کہ یہ ان کے نہیں ہیں لیکن آج مان گئے ہیں ۔ اسد عمر

میں کہوں گا کہ اتنے الزامت لگایں جتنے ثبوت ہوں جو بھی فیصلہ آئے اسے سب تسلیم کریں۔ بیرسٹر ظفراللہ

عمران خان نے کئی بار کہا ہے کہ جو قانون نواز شریف پر لگے اسی کے تحت ان کا بھی احتساب کیا جائے۔ اسد عمر

عدالت نے کئی بار کہا ہے کہ پہلے نواز شریف کا احتساب ہو گا پھر عمران خان کا ہو گا۔ اسد عمر

سپریم کورٹ اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس موقع ہے خود پر لگے داغ کو دھو دیں عدالت نے آّج تک کبھی پنجاب کے وزیراعظم کا احتساب نہیں کیا۔ ندیم افضل چن