10 May, 2017 16:37


NADEEM MALIK LIVE

www.samaa.tv/videos/NadeemMalik

10-MAY-2017

قوم کو بتایا جائے کہ قومی سلامتی کیا ہے اس کی تعریف کیا ہے۔ ندیم افضل چن کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

ڈان لیکس یا تو قومی سلامتی کی بات نہیں تھی اگر تھی تو پھر بتایا جائے کہ زمہ دار کون ہے۔ ندیم افضل چن

ڈان لیکس پر تحقیقاتی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ ندیم افضل چن

پرلیمنٹ کو ڈان لیکس پر بائی پاس کر دیا گیا ہے اسے پیش کیا جائے۔ فواد چوہدری

ڈان لیکس کا معاملہ احسن طریقے سے حل ہو گیا ہپے فوج نے سول سپرمیسی کو مان لیا ہے۔نہال ہاشمی

اگر سول سپرمیسی ثابت ہو گئی ہے تو پھر آئی ایس پی آر کے جنرل کو نکالے جس نے ڈان لیکس کے خلاف ٹویٹ کیا تھا۔ ندیم افضل چن

فوج نے اسی دن سول سپرمیسی مان لی تھی جس دن ڈان لیکش کا معاملہ وزیراعظم کے سپرد کر دیا تھا۔ جنرل غلام مصطفی

آئین کے تحت فوج خود ڈان لیکس کی انکوائری کر سکتی تھی اور سکیورٹی بریچ کرنے والے کو گرفتار بھی کر سکتی تھی۔ جنرل غلام مصطفی

جنرل راحیل کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا آج ہمارے ایران کے ساتھ تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔ فواد چوہدری

فوج نے کہا تھا کہ ڈان لیکس میں سکیورٹی بریچ نہیں ہوا۔ نہال ہاشمی

ملک کی موجودہ صورت حال میں حکومت اور فوج کا ایک پیج پر ہونا بہت ضروری ہے۔ جنرل غلام مصطفی

ڈن لیکس کا معاملہ اب جنرل باجوہ کے لئیے بہت مشکل ہو گیا ہے جوان ان سے اس پر سوالات کرتے رہے ہیں۔ جنرل غلام مصطفی

ڈان لیکس میں جن لوگوں پر الزام لگایا گیا ہے انہیں اپنی صفائی کا موقع ملنا چاہئیے۔ فواد چوہدری

مسلم لیگ ن کی طرف سے سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے کہ یہ جمہوریت کی فتح ہے۔ ندیم افضل چن

مجھے ڈر ہے کہ ڈان لیکس کے فیصلہ کے بعد حکومت اور فوج کے درمیان ایک نئی لڑائی شروع ہو جائے گی۔ ندیم افضل چن

فوج نے ڈان لیکس کا معاملہ اٹھایا لیکن بعد میں کسی دباؤ کی وجہ سے بالکل بیٹھ گئی ہے۔ فواد چوہدری

حکومت اور فوج کے درمیان جو دراڑ پڑی ہے اسے بھرنا بہت مشکل ہو گا۔ جنرل غلام مصطفی

میری جنرل باجوہ سے استدعا ہے کہ وہ دو ہزار تیرہ والا جنرل کیانی کا فامولا پھر نہ چلنے دے۔ ندیم افضل چن

http://naeemmalik.wordpress.com/

Advertisements