24 July, 2017 18:35


NADEEM MALIK LIVE

www.samaa.tv/videos/NadeemMalik

24-JULY-2017

آج کا دہشت گردی کا واقع ارفع کریم ٹاور سے دو سے ڈھائی سو گز کے فاصلے پر ہوا۔ عمر سیف کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

پولیس نے ناکہ لگا رکھا تھا جہاں خود کش دھماکہ کیا گیا۔

ارفع کریم ٹاور بہت محفوظ بلڈنگ ہے یہاں سکیورٹی چیک کے بغیر کسی کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔

ارفع کریم ٹاور میں بہت سے اہم دفاتر ہیں لیکن اس میں وزیر اعلی کا کوئی دفتر نہیں ہے۔

آئی جی لاہور حیدر اشرف نے کہا کہ

لاہور کی پولیس کے جوانوں نے اپنا خون دیا ہے تاکہ لاہور کے لوگ محفوظ رہیں۔

لاہور کے دہشت گردی کے واقع میں شہید ہونے والے چھبیس افراد میں سے نو پولیس والے تھے۔

پولیس والوں نے دہشت گرد کو روکنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے اتنے جوان شہید ہو گئے۔

دہشت گردوں کا کس گروپ کے ساتھ تعلق ہے ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا۔

پی ٹی آئی کے شفقت محمود نے کہا کہ

جو بھی پولیس والے اور دوسرے اداروں کے جوان ہماری سکیورٹی کے لئیے اپنی جانیں دیتے ہیں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

ہمارے ہاں پولیس کی ٹریننگ کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے فوج اور پولیس کی ٹریننگ میں بہت فرق ہے۔

انٹیلی جنس ک بغیر دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا نیشنل ایکشن پلان پر عمل بہت ضروری ہے۔

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئیے عوام کو متحرک کرنا بہت ضروری ہے اپنے ارد گرد لوگوں پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔

پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئیے استعمال کیا جاتا ہے لاہور میں ایس ایچ او کی تعیناتی وزیراعلی ہاؤس سے کی جاتی ہے۔

پولیس کی مناسب ٹریننگ کی جائے اور پولیس والوں کا اپنے ادارے کے اختیارات دئیے جایں۔

فرقہ وارانہ گروپوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی ان کے ساتھ مل کرسیاست کی جا رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈی والا نے کہا کہ

دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان پر اندرون اور بیرون ملک سے دباؤ آ رہا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہم دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لے رہے۔

سندھ آئی جی پولیس کے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا آئی جی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

ہر صوبے کا وزیراعلی چاہتا ہے کہ اس کی مرضی کا آئی جی ہو یہ ہر صوبے میں ہوتا ہے۔

مسلم لیگ ن کےطارق فضل چوہدری نے کہا کہ

دہشت گردی کے خلاف سیاسی جماعتیں اختلافات ہونے کے باوجود اکٹھی ہو جاتی ہیں۔

سیاسی قوتوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کیا ہے علما۶ میں بھی میچورٹی آئی ہے۔

پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئیے بارڈرز کو محفوظ بنانا بہت ضروری ہے۔

دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ کامیابیاں انٹیلی جنس کی وجہ سے حاصل کی گئی ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ فوج اور پولیس کی ٹریننگ میں بہت فرق ہے۔

پولیس کو گائیڈ لائن سیاسی قیادت نے دینی ہوتی ہے لیکن تقرری اور تبادلہ پولیس کو کرنا چاہئیے۔

http://naeemmalik.wordpress.com/

Advertisements